حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے جب دعوتِ حق پیش کی تو ان کا اصل پیغام خدا پرستی، تقویٰ اور غیر فطری شہوت پرستی کے خاتمے پر مبنی تھا۔ آپ ایک ایسے مخلص داعی کی حیثیت سے اپنی قوم کے درمیان کھڑے ہوئے جن کی شخصیت ہر قسم کی ذاتی غرض، مادی مفاد اور لایعنی باتوں سے کلی طور پر پاک تھی۔ داعی کی یہ بے لوثی اور اخلاقی پاکیزگی اس امر کا روشن ثبوت تھی کہ وہ جو کچھ فرما رہے ہیں، پوری سنجیدگی اور خیر خواہی کے ساتھ فرما رہے ہیں۔ آپ نے قوم کو جھنجھوڑا کہ وہ اپنے رب کے قائم کردہ تخلیقی اور فطری نظام کو پامال نہ کریں اور عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کی طرف مائل ہو کر حد سے تجاوز کرنے والے باغی نہ بنیں۔
پیغمبر کی اس پکار کو وہی لوگ قبول کر سکتے تھے جن کے دلوں میں خشیتِ الٰہی (fear of God) اور اپنی عاقبت کا زندہ احساس موجود ہو۔ مگر قومِ لوط اخلاقی انحراف اور شہوت پرستی کی اس آخری حد تک جا پہنچی تھی جہاں ضمیر کی آواز اور خدا کا خوف پوری طرح مٹ جاتا ہے۔ جب کسی قوم کے اندر سے احساسِ جواب دہی (sense of accountability) رخصت ہو جائے تو وہ حق کی نصیحت پر کان دھرنے کے بجائے خود داعیِ حق کی دشمن بن جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قومِ لوط نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کرنے کے بجائے اپنے پیغمبر کے خلاف محاذ کھول لیا۔
دعوتی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ داعی کو ہر دور اور ہر خطے میں یکساں حالات نہیں ملتے، بلکہ اسے نوع بنوع معاشرتی احوال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واسطہ جس قوم سے رہا، وہاں کا بنیادی فکری انحراف شرک اور بت پرستی تک محدود تھا، مگر حضرت لوط علیہ السلام کو ایک نئے علاقے میں شرک کے ساتھ ساتھ ایک بالکل نئے اور غیر معمولی مظہر (unusual phenomenon) سے نبرد آزما ہونا پڑا، جس کی نظیر انسانی تاریخ میں اس سے پہلے موجود نہ تھی۔ اس سے یہ دعوتی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جب کوئی داعی میدانِ عمل میں اترتا ہے تو بدلتے ہوئے حالات کے زیرِ اثر اس کے سامنے ایسے غیر متوقع اور پیچیدہ چیلنج آ سکتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے دعوت کے طریقۂ کار میں گہری بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔
موجودہ دور کا اگر معروضی نگاہ سے جائزہ لیا جائے تو جدید مغربی فکر کے زیرِ اثر پروان چڑھنے والا مطلق آزادی (unlimited freedom) کا تصور عین وہی فکری اور اخلاقی بحران پیدا کر رہا ہے۔ آج فرد کی انفرادی آزادی کو اس حد تک تقدس دے دیا گیا ہے کہ کسی بھی اخلاقی، سماجی یا مذہبی حد بندی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ جدید فکر نے باہمی رضامندی (mutual consent) کو حتمی اخلاقی سند بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں ہر اس فعل کو، خواہ وہ فطرت کے کتنا ہی خلاف کیوں نہ ہو، جرم کے دائرے سے خارج (decriminalization) کر کے قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے۔
یہ صورتِ حال نتائج کے اعتبار سے قدیم قومِ لوط کے دور سے بھی زیادہ نازک اور گمبھیر ہے، کیونکہ ماضی میں برائی کو ایک اخلاقی پستی سمجھ کر کیا جاتا تھا، مگر آج اسی غیر فطری عمل کو نظریاتی بنیاد (ideological justification) اور قانونی جواز فراہم کر کے ایک حق کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ جب باطل کو باطل کہنے کے بجائے اسے حقوق اور آزادی کا نام دے دیا جائے تو انسانی معاشرہ شدید ترین تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔ عصرِ حاضر کے داعی کے لیے یہ ایک بڑا فکری چیلنج ہے کہ وہ جدید انسان کو اس کے بنائے ہوئے فکری فریب سے آگاہ کرے اور اسے دوبارہ خالق کی طے کردہ فطرت اور اس کے ابدی قوانین کی طرف واپس لائے۔
(a) The community in which Lot appeared, had crossed all limits in debauchery. Not being content with their wives, they had started indulging in homosexuality. Lot taught them God-worship and piety and attempted to dissuade them from indulging in evil deeds. Lot appeared in the community as a preacher whose personality was entirely free of falsehood and he never indulged in loose talk. Also, he completely abstained from raising matters of material interest. These events were enough to establish that Lot was fully serious about whatever he was saying. But as he spoke out against the behaviour of the community, they became his enemies. For Lot’s words to carry any weight, it was necessary for the people to fear God. But the people of his community had become completely devoid of this very virtue. Then, how could they pay attention to the prophet’s teachings?